کلیات حسرت: ردیف’الف‘ کی غزلیں

(1)

لائوں کہاں سے حوصلہ آرزوئے سپاس کا
جبکہ صفاتِ یار میں دخل نہ ہو قیاس کا

عشق میں تیرے دل ہوا ایک جہانِ بیخودی
جان خزینہ بن گئی حیرت بے قیاس کا

رونقِ پیر ہن ہوئی خوبیِ جسمِ نازنین
اور بھی شوخ ہو گیا رنگ ترے لباس کا

لُطف و عطا ئے یار کی عام ہیں بسکہ شہرتیں
قلب گنہگار میں نام نہیں ہراس کا

دل کو ہو تُجھ سے واسطہ، لب پہ ہو نام ِ مصطفیٰ
وقت جب آئے اے خدا خاتمۂِ تواس کا

طے نہ کسی سے ہو سکا تیرے سوا معاملہ
جانِ امید وار کا حسرتؔ ِ محوِ یاس کا

(2)

حُسن بے پروا کو خُود بین و خود آرا کر دیا
کیا کیا میں نے کہ اظہار ِ تمنّا کر دیا

بڑھ گئیں تم سے تو مِل کر اور بھی بے تابیاں
ہم یہ سمجھے تھے کہ اب دل کو شکیباکر دیا

پڑھ کے تیرا خط مرے دل کی عجب حالت ہوئی
اضطرابِ شوق نے اِک حشر بر پا کر دیا

ہم رہے یاں تک تری خدمت میں سرگرم نیاز
تجھ کو آخر آشنائے نازنے کیا سحرایسا کر دیا

عشق سے تیر ے بڑھے کیا کیا دلوں نے مرتبے
مہرذروں کو کیا قطروں کو دریا کر دیا

کیوں نہ ہوں تیری محبت سے منوّر جان و دل
شمع جب روشن ہوئی گھر میں اجالا کر دیا

تیری محفل سے اٹھاتا غیر مجھ کوکیا مجال
دیکھتا تھا میں کہ تو نے بھی اشارہ کر دیا

سب غلط کہتے تھے لطفِ یار کو وجہِ سکوں
دردِ دل اُس نے تو حسرت اور دونا کر دیا

(3)

رنگ سوتے میں چمکتا ہے طرحداری کا
طُرفہ عالم ہے ترے حسن کی بیداری کا

مایۂ عشرتِ بے حد غمِ قید وفا
میں شناسا بھی نہیں رنج گفتاری کا

جورِ پیہم نہ کرے شانِ توجہ پیدا
دیکھنا بدنام نہ ہو نام ستمگاری کا

ہیں جو اے عشق تری بے خبری کے بندے
بس ہو ان کا تو نہ لیں نام بھی ہشیاری کا

کٹ گیا قید میں ماہِ رمضان بھی حسرتؔ
گرچہ سامان سحر کا تھا نہ افطاری کا

(4)

تجھ سے وہ مِلا شوق سے اور تونے نہ جانا
حسرتؔ کو ابھی یاد ہے تیرا وہ زمانا

ہے ایک درِ پیرِمغاں تک تو رسائی
ہم بادہ پرستوں کا کہاں اور ٹھکانا

مخصوصِ غم عشق ہیں ہم لوگ ہمارا
اچھا نہیں اے گردشِ افلاک ستانا

صد شکر غمِ ہر دو جہاں سے ہے وہ فارغ
جو دل ہے ترے تیرِ محبت کا نشانا

اب عشق کا وہ حال، نہ ہے حُسن کا وہ رنگ
باقی ہے فقط عہدِ تمنّا کا فسانا

آتی ہے تری یاد ، سو حسرتؔ کو شبِ غم
ہر بار اُسے قصۂ دل کہہ کے سنانا

(5)

کوئی بھی پرساں نہیں حالِ دل رنجور کا
یہ ستم دیکھو دیار شوق کے دستور کا

جاتے جاتے رہ گیا وہ نازنیں صُبح وصال
ناز بردارِ اثر ہوں گریۂ مجبور کا

سر اٹھائے بزمِ جاناں میں بھلا کس کی مجال
رُعب غالب ہے یہ اس کے جلوۂ مغرور کا

ہے غضب کی دلفریبی آج حسن ماہ میں
بھر بھی دے اِک جام ساقی بادۂ پر نور کا

خاطرِ مایوس میں نقشِ امید ِ وصلِ یار
نور ہے صحرا میں گویا اک چراغ طور کا

یک قلم بے سود ہے اظہار ِ حالِ آرزو
حُسن بے پروا کے آگے عشق نامنظور کا

مستی عیشِ دوعالم کی نہیں پروا مجھے
دیکھنے والا ہوں میں اس نرگسِ مخمور کا

ہے سُپردِ خاک حسرتؔ واں جو اِک یار عزیز
قصداِک مدّت سے ہم رکھتے ہیں گورکھپور کا

 

 

 

Back to top button
Translate »
error: Content is protected !!